سورۃ المسد — پس منظر، پیغام اور علماء کی تشریح
سورۃ المسد قرآنِ کریم کی ایک مکی سورت ہے جس میں ابو لہب اور اس کی بیوی ام جمیل کے انجام کا واضح طور پر اعلان کیا گیا ہے۔ یہ سورت نہ صرف دشمنانِ اسلام کے انجام کو ظاہر کرتی ہے بلکہ قرآن کے اعجاز، صداقت اور غیب کی خبر کا ایک عظیم ثبوت بھی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ وہ شخص جو اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کی مخالفت پر ڈٹ جاتا ہے، خواہ وہ نسبی رشتہ ہی کیوں نہ رکھتا ہو، انجام کار خسارے میں پڑتا ہے۔
نزول کا پس منظر
اسی گستاخی کے جواب میں یہ سورت نازل ہوئی۔
مستند علماء کی آراء
امام طبریؒ
امام طبری اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ ”تبت یدا“ سے مراد ابو لہب کی ہر محنت، مال، اور کوشش کا برباد ہونا ہے۔ اس کے مال و دولت نے اسے دنیا میں بھی فائدہ نہ دیا اور آخرت میں بھی وہ خسارے میں رہے گا۔
ابنِ کثیرؒ
ابن کثیر بیان کرتے ہیں کہ اس سورت نے ابو لہب اور اس کی بیوی کے جہنم میں جانے کی خبر اس وقت دے دی تھی جب وہ زندہ تھے۔ اگر ابو لہب ظاہری طور پر بھی اسلام کا اظہار کر دیتا تو (نعوذ باللہ) قرآن کا یہ اعلان غلط ثابت ہوتا، مگر ایسا نہ ہوا، جو قرآن کی صداقت کا زندہ ثبوت ہے۔
امام قرطبیؒ
امام قرطبی فرماتے ہیں کہ ابو لہب کی بیوی کو ”حَمَّالَۃَ الْحَطَب“ اس لیے کہا گیا کہ وہ نبی ﷺ کے راستے میں کانٹے لا کر ڈالتی تھی اور چغلیاں لگانے میں بھی مشہور تھی، جس سے آگ بھڑکتی ہے، بالکل جیسے لکڑیاں آگ بڑھاتی ہیں۔
شیخ عبدالرحمٰن السعدیؒ
شیخ السعدی لکھتے ہیں کہ یہ سورت اعلان کرتی ہے کہ نسب کا کوئی مقام نہیں جب کردار فاسد ہو۔ ابو لہب نبی ﷺ کا چچا تھا، مگر دشمنی اور تکبر نے اسے بدترین انجام تک پہنچایا۔
اس سورت کے اہم اسباق
دشمنانِ دین کا انجام ہمیشہ رسوائی ہے۔
جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے، وہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ ناکام رہتا ہے۔
مال و دولت نجات نہیں دیتی۔
ابو لہب کے پاس مال اور اولاد تھی، مگر وہ سب بے فائدہ ثابت ہوئے۔
رشتہ داری ایمان کا بدل نہیں۔
نبی ﷺ کا چچا ہونے کے باوجود ابو لہب جہنم کا مستحق بنا۔
عورت اور مرد دونوں اپنے اعمال کے ذمہ دار ہیں۔
ام جمیل کے کردار اور عداوت کی وجہ سے اس کا بھی الگ ذکر کیا گیا۔
قرآن کا اعجاز اور غیب کی خبریں
سورت نے ابو لہب کے انجام کا اعلان اس کی زندگی میں کیا، جو قرآن کا واضح معجزہ ہے۔
اختتامی کلمات
سورۃ المسد محض ایک شخص اور اس کی بیوی کی مذمت نہیں بلکہ یہ ایک دائمی پیغام ہے کہ اللہ کی بڑی سے بڑی نعمت — رشتہ، مال، طاقت — سب بے فائدہ ہے اگر انسان ایمان اور اخلاق سے عاری ہو۔ یہ سورت قرآن کی حقانیت، دینِ اسلام کی صداقت، اور دشمنانِ رسول کے نتیجہ خیز انجام کا یقینی اعلان ہے۔

0 Comments